تحریر : مسعود جاوید

ہندوستانی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ میں اس بات کو لے کر اضطراب ہے کہ جمعیت علماء ہند اور محمود مدنی صاحب کو ہی آر اس اس سربراہ سے ملاقات کے لئے کیوں بلایا گیا؟ کس نے کہا کہ وہ مسلمانانِ ہند کے قائد ہیں ؟ پهر سلسلہ وار وزیر داخلہ سے ملاقات اور سوئٹزرلینڈ میں ایک خاص پروگرام میں شرکت.
اس سے قبل بهی کئی موقعوں پر میں نے لکها کہ جس دن مسلمانان ہند علماء مدارس دینیہ اور موجودہ ملی تنظیموں کا متبادل دیں گے بقول دانشوران ‘ملا مولوی اور ان کی تنظیمیں’ خود بخود بے حیثیت بے وقعت اور irrelevant ہو جائیں گے. تنقید برائے تنقید یا برائے تنقیص یا ذاتی بغض یا ذاتی نا پسندیدگی نہیں ہونی چاہئے. سائنسی اعتبار سے خلا مستحیل ہے. گلاس بظاہر خالی نظر آتا ہے اس لئے کہ اس میں پانی یا کوئی شئی نہیں ہے مگر درحقیقت وہ خالی نہیں ہے اس میں ہوا ہے.
ہمارے بیشتر احباب کی ساری توجہ اس پر مرکوز ہوتی ہے کہ فلاں تنظیم نکمی ہے قوم کا سودا کرتی ہے وغیرہ وغیرہ. ….. لیکن اس سے خلاصی کے بعد کون ؟ کیا کوئی متبادل ہے ؟ ایک اور سوال کا جواب نہیں ملتا کہ جمعیت نے اہنا موقف رکها خواہ وہ موقف مسلمانوں کی ترجمانی کرتا ہو یا نہیں. لیکن دوسری ملی تنظیموں نے برملا اپنے موقف کا اعلان کیوں نہیں کیا ؟
کشمیر بهارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور کشمیر کے باشندے ہمارے اپنے بهارتی ہیں. یہ موقف قابل اعتراض نہیں ہے. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا دستور اور قانون کی تابعداری کرتے ہوئے کشمیر میں حالیہ قدم اٹهایا گیا ہے؟ کیا وہاں حقوقِ انسانی کی پامالی ہو رہی ہے؟ دستور و قانون کے اعتبار سے حکومت کی جانب سے کیا غلط کیا گیا؟ یہ وہ قانونی اشکالات ہیں جو حکومت سے گفتگو و شنید کے وقت اٹهانے کی ہے.
کتنا آسان ہے آر اس اس کو کوستے رہنا لیکن کیا کبھی مسلمانوں نے ان کے مرتب و مخطط اور لونگ ٹرم پلاننگ کا جائزہ لیا ان کی اچهی باتوں سے کچھ سیکها ؟ اس وقت مسئلہ دستور اور قانونی شقوں کو سامنے لانے کا ہے. کیا مسلمانوں میں ماہرین قانون ماہرین دستور اور کہنہ مشق وکلاء نہیں ہیں ! ریٹائرڈ جسٹسوں کی ایک لمبی فہرست ہے.
رائے عامہ بنانے والے صحافی پولیٹیکل سائنس کے ڈاکٹر پروفیسر مصنف مولف اور اساتذہ نہیں ہیں ؟ یہ اپنی زبان وقلم کا استعمال تعمیری کام کے لئے کب کریں گے. یہ عوام سے کب جڑیں گے؟
ہر شخص ان ملاؤں سے توقع کیوں کرتا ہے کہ ہر میدان میں وہی لوگ کام کریں !
آر اس اس کے مختلف شعبہ جات کی تنظیمیں ہیں. ان میں ہی ایک ونگ وکلاء کی ہے اکهل بهارتیہ ادهیوکتا پریشد … کیا مسلمانوں کی بهی ایسی کوئی تنظیم ہے؟
آر اس اس کی تعلیمی تنظیم (شعبہ) ودیا بهارتی ہے جو پرائیویٹ اسکولوں میں ہندوستان کی سب سے بڑی تنظیم اور نیٹ ورک ہے جس کے تحت 12000 اسکول ہیں جن میں 3200000 لاکھ طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں. کیا مسلمانوں خاص طور شمالی ہند کے مسلمانوں کا بهی ایسا کوئی نئٹ ورک ہے.
محمود مدنی صاحب کی تصرفات پر توانائی صرف کرنے کی بجائے مخلص متحرک دین و دنیا سے واقف شفاف متبادل پر کام کرنے کی ضرورت ہے.