نئی دہلی24ستمبر: 2019 لوک سبھا انتخاب میں پی ایم نریندر مودی کے خلاف وارانسی سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے برخاست بی ایس ایف جوان تیج بہادر یادو نے ایک بار پھر الیکشن لڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس بار انھوں نے ہریانہ اسمبلی انتخاب میں وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹّر کے خلاف کھڑنے ہونے کا ارادہ کیا ہے۔ لوک سبھا انتخاب میں حالانکہ الیکشن کمیشن نے تیج بہادر کا پرچہ نامزدگی خارج کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ الیکشن نہیں لڑ پائے تھے، لیکن اس بار انھیں امید ہے کہ وہ منوہر لال کھٹر کو شکست دیں گے۔
انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ سے بات چیت کرتے ہوئے تیج بہادر نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے لیڈروں سے وہ بات کرنے والے ہیں اور اس کے بعد انتخاب لڑنے سے متعلق آخری فیصلہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کے خلاف انتخاب لڑ کر وہ سرخیوں میں نہیں آنا چاہتے بلکہ ان کا مقصد بی جے پی حکومت میں کسانوں اور جوانوں کی حالت زار کو سب کے سامنے لانا ہے۔
تیج بہادر نے اپنی بات چیف کے دوران بتایا کہ ’’میں کھٹر کے خلاف انتخاب لڑنے کا خواہشمند ہوں، لیکن اس سلسلے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ الیکشن لڑوں اور بی جے پی حکومت میں جوانوں پر جو ظلم ہوا ہے، کسانوں و سرکاری ملازمین کی جو بدتر حالت ہے، اس کو سامنے لاؤں۔ میں چاہوں گا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف انتخاب لڑ کر بی جے پی کی خامیوں کو سب کے سامنے ظاہر کروں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ تیج بہادر یادو کا تعلق ہریانہ کے مہندر گڑھ ضلع واقع گاؤں رتاکلاں سے ہے، لیکن ان کی فیملی اس وقت ریواڑی میں رہتی ہے۔ وہ پانچ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ تیج بہادر کا کہنا ہے کہ آج کل وہ کھیتی باڑی کے ذریعہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی بیوی شرمیلا یادو ریواڑی میں ایک کارخانے میں مزدور کی شکل میں کام کرتی ہیں۔