28اکتوبر کو بہارمیں اسمبلی انتخاب کا پہلے مرحلہ عمل میں آجائے گا جس میں قومی وعلاقائی پارٹیوں کے ساتھ چھوٹی چھوئی پارٹیاں بھی اپنی قسمت آزمارہی ہیں ان میں تمام پارٹیوں کی نگاہیں مسلمانوں پر مرکوز ہیں اور انہیں اپنی جانب راغب کر نے کیلئے اپنے حکمت تیارکر چکی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان اپنے کو اتنا طاقتور نہیں بنا سکتے کہ ان پارٹیوں کو مسلما نوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جاسکے ریاست بہار میں مسلمانوں کی آبادی 19% فیصد ہے بہار اسمبلی کی243 سیٹوں میں سے 108 سیٹیں ایسی ہیں جہاں کافی تعداد میں مسلمان آباد ہیں گزشتہ 15 کے اسمبلی انتخاب میں 23 مسلم ممبران اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ اسمبلی کے الیکشن میں 16 مسلم لیڈر دوسرے مقام پر رہے تھے

ان میں ایک درجن امید وار ایسے تھے جو معمولی ووٹوں سے شکست ہوئے تھے قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان میں بیشتر جگہوں پر مسلمانوں کے ووٹوں کاانتشار ہی انکے ہار کی وجہ بنی تھی، قومی پارٹی کے امیدوار ہوں یا نام نہاد مسلم لیڈر سبھی نے ہزار دو ہزار ووٹ لاکرکامیاب ہونے والے رہنماؤں کا راستہ روک دیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم مسلمان کسی بھی حال میں متحد نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم سرکار پر کوئی دباؤ بنانے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم کبھی چھل کپٹ اوردباؤ کی سیاست کرتے ہیں

اس مضمون میں ہم نے بہار کے ایک ایک اسمبلی کی آبادی کے ساتھ ایک جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلم قیادت اور وہاں کے عوام اپنے طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ کس طرح سے وہ اپنی نمائندگی بہار حکومت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں

کشن گنج کے کوچہ دھام 74%، پورنیہ کے آمورمیں 74%،پورنیہ کے بائسی 69%،ارریہ کے ارریہ میں 69%، جوکی ہاٹ میں 68%،کشن گنج کے بہادر گنج 68%،کٹیہار کے بلرام پور میں 65%،کشن گنج کے کشن گنج 64%، ٹھاکر گنج 63%، کٹیہار کے پرانپور میں 50%،یہ کل دس 10حلقہ ہیں

پورنیہ کے قصبہ اور کٹیہار کے کدوامیں 45%،ارریہ کے فوربس گنج میں 35%،مدھو بنی کے بیسفی اور مشرقی چمپارن کے ڈھاکہ میں 34%، ارریہ کے سکتی، دربھنگہ کے کیوٹی اور سیتا مڑھی کے باج پٹی میں 33%، دربھنگہ کے جالے میں 32%، کٹیہار کے براری میں 31%، مشرقی چمپارن کے نرکٹیا گنج اور مغربی چمپارن کے سکتامیں 30%، گیا کے بیلا گنج میں 29%،کٹیہار کے کٹیہار،پورنیہ، سیتا مڑھی کے پری ہار، سیوان اورگیا کے شیرگھاٹی میں 28%،اورنگ آباد کے رفیع گنج،سیوان کے برہڑیا،مغربی چمپارن کے چان پٹی، بیتیا، دربھنگہ کے دربھنگہ شہر اور دربھنگہ دیہی اور بانکا میں 27%،دربھنگہ کے گورا بوڑم،مشرقی چمپارن کے کلیان پور اورارریہ کے نرپٹ گنج میں 26%، ارریہ کے سگولی،سیوان کے رگھو ناتھ پور اورگیا کے گیا شہر میں 25% آبادی مسلمانوں کی ہے یہ 32 حلقہ ایسے ہیں جہاں مسلمان 25% – 49% آباد ہیں

مدھو بنی کے مدھوبنی اسمبلی حلقہ، سیتا مڑھی کے سورسنڈ، بھاگل پور کے ناتھ نگر اور نالندہ کے بہار شریف میں 24%،مشرقی چمپارن کے رکسول، دربھنگہ کے علی نگر، گوپال گنج کے برولی اور سوپول کے چھاتا پور میں 23%،مشرقی چمپارن کے چنٹیا اور لوریا اورمظفر پور کے کانتی میں 21%،پورنیہ کے دم داھا، ادھم پور،بھاگل پور کے کہل گاؤں اورگوپال گنج کے ہتھوامیں 20% مسلم آبادی ہے یہ 15 حلقہ ایسے ہیں جہاں مسلم کی آبادی 20% – 25% ہے

اس کے علاوہ دربھنگہ کے بینی پور اور بہادر پور،حیا گھاٹ،شیو ہر کے شیوہر،بھاگل پور کے گوپال پور،بھاگل پور،مظفر پور کے گائے گھاٹ،مظفر پور، سہرسہ کے مہیسی میں اور سمری بختیار پور، سیوان کے دربھنگہ اور جوریا کوٹھی، گوپال گنج کے گوپال گنج،سارن کے اکما اور سون پور،ویشالی میں راگھو پور اور ویشالی، بیگو سرائے کے میتی ہانی اور صاحب کمال پور، مونگیر کے مونگیر اور جمال پور،پٹنہ کے پٹنہ اور پٹنہ صاحب، دانا پور اور پھلواری، بھوج پور کے تراری، نالندہ کے استھاواں اور ہرناؤت،بکسر کے ڈمراؤں، ڈہری کے روہتاس،گیا کے گوروا،امام گنج، اتری،وزیر گنج اور ٹکاری،اورنگ آباد کے نبی نگر، ویشالی،نوادہ کے گووند پور اور وارث علی گنج،شیخ پورہ،سمستی پور کے سمستی پور، حسن پور، وارث نگر اور محی الدین نگر 15% – 19% آبادی ہے یہ 44 حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی15% – 19%ہے

جبکہ ان کے علاوہ جموئی، اورنگ آباد،، مادھے پور، کھگڑیا، کیمور، جہان آباد اور ارول جیسے حلقے 7ایسے ہیں جہاں مسلمان 10% – 14% فیصد آبادہیں

پورے بھارت میں ذات پات کی بنیادوں پر سیاست کی جاتی ہے ہر پارٹی کااپنا بیسک ووٹ بینک ہے اور اسی ذات کو بنیاد بنا کر ہر پارٹی مختلف ذاتوں میں ٹکٹ دیکر زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کر نے کی کوشش کرتی ہے دراصل اسی سیاست کا نام سوشل انجینئرنگ دیا جاتاہے جس کے بنیاد پرہر پارٹی اپنے ٹکٹ اور امیدواروں کا نام طے کرتی ہے کہ کس ذات کاکتنا امیدوار ہوگا اور کون کہاں سے الیکشن لڑے گا لیکن ہندوستانی مسلمان اس پر یقین نہیں رکھتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی کوئی اپنی پارٹی نہیں ہے 1990کے قبل مسلمان کانگریس کا بنیادی ووٹر سمجھا جاتا تھا لیکن نرسمہاراو جیسے فرقہ پرست ذہنیت کے رہنماؤں نے انہیں متنفر ہونے پر مجبور کردیا اور مسلمانوں کا عام طبقہ کانگریس اور جن سنگھ میں اب کوئی فرق نہیں سمجھتا اسی وجہ کراب مسلمان جسے اپنا ہمدرداورسیکولر سمجھتے ہیں انکے ساتھ ہو جاتے ہیں

اب مسلم قائدین اور عوام کو بھی ان پارٹیوں سے کچھ سیکھ لینے اور اپنی شناخت قائم کرنے کی ضرورت ہے اسکے لئے لازمی ہے کہ مسلم کسی
ایک نقطہ پر متحد ہوں بہرحال مسلمانوں کو اتحاد قائم کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی نقطہ یاکسی بنیادی ایجنڈہ پر اتفاق کرنا ہوگا اسکا ایک طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مسلمان متحد ہو کر کسی ایک امیدوار کو ووٹ کریں جہاں دو مسلم امیدوار ہوں وہاں مہا گٹھ بندھن کے امیدوار کو ووٹ کریں جہاں صرف ایک مسلم امیدوار ہو تو مسلمانوں کو متحد ہو کر صرف اسے ہی ووٹ کرنا چاہئے اورجہاں کوئی مسلم امیدوار نہ ہو تو مہا گٹھ بندھن کے امیدوار کو ووٹ کرنا چاہئے یا پھر اس امیدوار کی حمایت کریں جو این ڈی اے کے امیدوار کو سکشت دے سکے اسکے بعد انہیں پیچھے مڑکر دیکھنا نہیں ہوگا یہی اپنی شناخت قائم کرنے اور کامیابی کے لئے پہلی سیڑھی ہوگی اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں اپنی ترقی اور منزل تک کا راستہ طے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے