8 Views

ممبئی،17اکتوبر(اے یوایس) اپنے بیانات کو لے کر سرخیوں میں رہنے والی بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رانوت کے خلاف ممبئی کی باندرہ عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ باندرہ عدالت نے یہ حکم دو لوگوں کے خلاف دائر عرضی پر دیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ہندو مسلم طبقے کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش کرتی ہیں۔کنگنا رانوت سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے لے کر ٹی وی تک ہرجگہ بالی ووڈ میں مبینہ طور پر جاری برائیوں کے خلاف بولتی رہی ہیں۔

وہ بالی ووڈ میں مبینہ طور پر پھیلے ڈرگس کے جال اور نیپوٹزم (کنبہ پروری) کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ اسی کی مخالفت میں دو مسلم شخص نے باندرہ عدالت میں ایک عرضی داخل کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ کنگنا رانوت اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ دو طبقے کے درمیان نفرت کو فروغ دے رہی ہیں، جس سے نہ صرف مذہبی جذبات مجروح ہوئے بلکہ فلم انڈسٹری میں کئی لوگ اس سے مایوس ہیں۔ اپنی عرضی میں انہوں نے کنگنا رانوت پر فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا ہے۔

عرضی گزار کے مطابق، باندرہ پولیس اسٹیشن نے کنگنا رانوت کے خلاف ان کے ملزمین پر نوٹس لینے سے منع کردیا تھا، جس کے بعد انہوں معاملے میں جانچ کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ عدالت نے کنگنا رانوت کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ عرضی گزار نے عدالت میں کنگنا رانوت کے کے کافی سارے ٹوئٹ بھی رکھے تھے۔

ان کے مطابق سی آر پی سی کی دفعہ 156 (3) کے تحت کنگنا رانوت کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جاسکتی ہے۔ ایف ا?ئی ا?ر کے بعد کنگنا رانوت سے پوچھ گچھ ہوگی اور اگر کنگنا کے خلاف پختہ ثبوت ملتے ہیں تو ان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔