عقیدہ و عقیت کے نام پر منتشر مسلمانوں کا شیرازہ آج ناممکن کی حد تک اتحاد و اتفاق کی راہ پر گامزن ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ہر روز شخصی، انفرادری اور انانیت پر مبنی غیر ضروری مسائل میں الجھ کر پوری قوم نت نئی افرا تفری کا شکار ہو رہی ہے۔تکفیرو تضلیل رائے عامہ ہوتی جا رہی ہے۔ کسی کو کافر اور گمراہ کہنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔تکفیر کے اصولوں کی دھجیاں اڑانا ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے۔شخصیت پرستی پر مبنی اسلام کے پیروکار مسلمانوں کی لا علمی، کم علمی اور کج فہمی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کا انسانی اصولوں کے دربار کا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے۔خالص جہالت کی رہنمائی میں فروغ پانے والا آج کے مسلمانوں کا اسلام ہزار سال قدیم مسائل کے کندھوں پر چل رہا ہے۔ نئے زمانے کے جدید تقاضوں کے لئے درکار تحقیق کا فقدان جہالت کی سربراہی کو اور مضبوط کر رہا ہے۔کچھ لوگوں نے اپنے دامن کو بچانے کے لئے تحقیق کے دروازے ہی بند کر دئے۔ کچھ نے یہود و نصاری کے طرز عمل کو اختیار کرتے ہوئے علم دین کو خاص طبقے کے لئے مخصوص کر دیا اور باقی پر اس طبقے کی اطاعت واجب قرار دے دی۔دنیا کی جاہل ترین قوم میں اسلام آیا اور دنیا کے اطراف تک اپنے انسانی اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر پہنچ گیااور جہالت و لا علمی کی تاریکی میں علم و ہدایت کا ایسا سورج طلوع کیا کہ پوری دنیا نے اس کی روشنی سے کامیابی و کامرانی کے منازل طے کیے۔ لیکن مسلمان پھر سے جہالت کی رسی اپنے گلے میں ڈالنے پر بضد ہے۔
آج کی نئی نسل کی دینی علم کی تشنگی کو تشفی بخش سیرابی نہیں مل پاتی ہے۔کیونکہ آج بھی کوئیں میں بلی گرتی ہے اور بلی نکال کر پانی پاک کرنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔آج کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ کسی کارپوریٹ کمپنی میں کام کرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حلال و حرام ہونے کا جائزہ کیسے لیا جائے۔ آج کی جدید تکینی دنیا میں کام کرنے کے طریقے بدل گئے ہیں۔پورا دن زمین کھود کر پانی نکالنے کے ساتھ اے سی کمرے میں بیٹھ انگلیوں کے اشاروں سے کام ہو رہے ہیں۔ جہاں مزدور کا پسینہ نہیں نکلتا۔ تو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دینے کا مسئلہ اس کا مسئلہ نہیں ہے۔ مذہب اسلام میں تجارت کا ایک بہت عام سا اصول ہے کہ جس تجارت میں مؤمن کے مال کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو وہ تجارت درست نہیں ہے۔ جس تجارت میں نفع اور نقصان طے نہ ہووہاں پر طے شدہ منافع حاصل کرنا درست نہیں ہے لیکن آج کا عالمی بازار اسی پر کام کر رہا ہے۔
آج کی تجارت میں کسی مال کے بدلے میں مال ہے ہی نہیں۔ بینک سے قرض لے کر ایک فیکٹری ڈالی جاتی ہے۔ وہاں مال تیار ہوتا ہے۔ وہاں سے بڑے اور چھوٹے دوکانداروں کے پاس وہ مال آتا ہے وہاں سے ایک آدمی اس مال کو خریدتا اور استعمال کرتا ہے۔ہر خریدار اپنا پیسہ آن لائن ٹرانسفر کر رہا ہے۔کسی کے ہاتھ میں ضمانتی رقم نہیں ہے۔اس پیسے پر آپ کی ملکیت بھی اور دوسرے کو اس کے استعمال کا اختیار بھی ہے۔اس پیسے کا تعلق اسٹاک مارکیٹ سے بھی ہوتا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ آج کی عالمی تجارت کا سب سے بڑا سچ ہے جو صرف سودبیاز کے لئے اور اس کی وجہ سے چلتا ہے۔اس صورت میں کسی کمپنی میں کیسے کام کیا جائے اور کیسے ان حالات میں تجارت کی جائے، یہ آج کے مسائل ہیں۔

یہ ایک مثال ہے اس سے بھی سنجیدہ مسائل تو داخلی شرعی مسائل ہیں۔ابھی جس طرح سے ایک بیٹھک میں تین طلاق کے مسئلے پر حکومت کی دخل اندازی سامنے آئی ہے جس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ہے کہ مسائل اور حالات کے تقاضوں میں تطبیق کی صورتوں پر نظر ہونی ضروری ہے۔یہ کام تو خالص علماء اور مشائخ کا تھا۔ حالانکہ یہ تو ایک شروعات تھی۔ اس جیسے درجنوں مسئلے اور اس کے مسلمات در پیش ہونے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ابھی بھی آنکھیں بند ہیں۔آنکھیں بند بھی کیوں نہ ہوں۔اپنی لا علمی چھپانے کے لئے جن لوگوں نے تحقیق و تطبیق کے دروازے بند کرد ئے تھے۔اس کے بعد جن لوگوں نے بند دروازوں سے تبرک حاصل کرنے کی تبلیغ کی تھی اور آنے والی نسلوں کواس کا عادی بنا دیا تھا آج وہ اس دروازے کو کھولنے سے گھبراتے ہیں۔
دین کے مروجہ مبلغین کی اکثر تعداد اسلامی اصول کے پس پردہ عالمی انسانی منطق و حکمت کو بتانے سے قاصر ہے۔مرد کو عورت کا حاکم بنا یا گیا ہے۔مرد کا حاکم ہونا اور عورت کا محکوم ہونا مرد و عورت کے ساتھ انصاف ہے۔ اب اس کے پیچھے کی حکمتیں دنیا کے دوسرے نظاموں کے مقابلے میں اس کے زیادہ موزوں
اور مناسب ہونے کے اسباب کیا ہیں اس پر مکمل خاموشی ہے۔مرد کو طلاق دینے کا اختیار حاصل ہے۔ عورت بھی خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے لیکن طلاق تبھی ہوگی جب مرد چاہے گا۔ اتنا بتانے کے بعد آگے کے ابواب بند ہیں۔ آخر کار نئے دور کا تجسس تو یہی ہے کہ بالآخر طلاق کا اختیار تو مرد ہی کے پاس ہے۔ مرد خواہ کتنا ہی ظلم کرے عورت کو نکاح سے چھٹکارا پانے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اگر ہے تو کیا ہے؟
کچھ لوگوں کے پاس اسلام کے خوبصورت اصولوں اور مسائل کے اتنے واہیات لاجک اور فلسفے ہیں کہ دونوں ہی آپس میں ٹکرا تے ہیں کسی اور کو اس پر سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔انسانی مساوات اسلام کا اصول ہے۔ مذہبی ٹھیکیداری مسلمانوں کا عمل ہے۔اسلام نے انسان کو انسانوں کی تجارت سے تو نجات دلا دی لیکن اس انسان نے اسی اسلام کا نام لے کر اسلام کو ہی بیچنا شروع کر دیا۔حرام کی کمائی، حق تلفی، کساد بازاری یہاں تک کہ زناکاری کے راستے بھی کھول لئے ہیں۔ حق و ہدایت کے اصولوں کو فتنہ و فساد کا ماخذ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ شاید اسی طرف قرآن کی سورہ بقرہ کی ایک آیت کا اشارہ ہے ارشاد ہوتا ہے کہ”خدا جب اپنے بندوں کو کچھ سمجھاتا ہے تو آسانی تفہیم کے لئے مثالیں دیتا ہے خواہ وہ مثال مکھی کی ہو یا کسی اور کی۔ سوجو لوگ ایمان والے ہیں ان کو خدا کی طرف سے حق بات سمجھ میں آجاتی ہے اور جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں وہ کہنے لگتے ہیں یہ کیسی مثال ہے اس کا کیا مطلب ہے۔ سو کچھ لوگ اس سے ہدایت حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ گمرہی کا ہی شکار رہتے ہیں“۔(مفہوم)
تو اسی طرح ان لوگوں نے اس مقدس کتاب سے سیاق و سباق اور اصل مفہوم کو چھپا کر لوگوں کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے یا اپنی کم علمی کو چھپانے کے لئے گمراہ کرناشروع کر دیا۔قرآن نے انسان کو بار بار آگاہ کیا کہ تم غور وفکر کیوں نہیں کرتے۔لیکن قرآن والے محض اس تصور پر منجمد ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس قرآن ہے۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ نئے مسائل پر تحقیق کے راستے کھولے جائیں۔ سوالوں کا خیر مقدم ہو۔ حکمت کی لازمی تلاش کی جائے۔