نئی دہلی24ستمبر: سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازعہ کی 30 ویں دن کی سماعت کے دوران منگل کو مسلم فریق نے کہا کہ 1949 میں پتہ چلا کہ گربھ گرہ میں بھگوان کا نزول ہوا ہے، لیکن اس سے پہلے وہاں مورتی نہیں تھی۔ سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوب ڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النذیر کی آئینی بنچ کے سامنے دلیل دی کہ افسانوی روایات کے مطابق پورے اجودھیا کو بھگوان رام کی جائے پیدائش سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اس کے بارے میں کوئی ایک خاص جگہ نہیں بتائی گئی ہے۔ انہوں نے ہندو فریق کے گواہ کی گواہی پڑھتے ہوئے کہا کہ لوگ رام چبوترے کے قریب لگی ریلنگ کی طرف جاتے تھے۔مورتی گربھ گرہ میں کیسے گئی اس بارے میں اس کو معلومات نہیں ہے۔