نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ 14 اور15نومبر2020کو بنگلور میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کی۔ نائب صدور اڈوکیٹ شرف الدین احمد،پروفیسر نازنین نیگم، دہلان باقوی، جنرل سکریٹریان الیاس محمد تمبے، عبدالمجید میسور، محمد شفیع، قومی خازن اڈوکیٹ ساجد صدیقی، قومی سکریٹریان ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، سیتارام کھوئیوال، ڈاکٹر محبو ب شریف عواد، اور نیشنل ورکنگ کمیٹی کے دیگر ممبران اور ریاستی صدور اجلاس میں شریک تھے۔
ا جلاس میں ملک کے موجودہ سماجی و معاشی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مندرجہ ذیل 12قرار داد یں منظور کی گئیں۔ 1)۔ انتخابی نظا م میں اصلاحات۔ ہمارے ملک کے انتخابی نظا م میں اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ ہر طرف سے شکایات اور شکوک و شبہات سننے کو مل رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال بہارکی حالیہ اسمبلی انتخابات ہیں جس میں متعدد انتخابی حلقوں میں پولنگ افسران نے مہا گٹھ بندھن کے امیدواروں کا جیت کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے جیت کے سرٹیفکیٹ دینے سے انکارکردیا کہ این ڈی اے امیدواروں نے ووٹوں کے بہت کم فرق سے الیکشن جیت لیا۔
ہزاروں پوسٹل ووٹوں پر بھی شکو ک وشبہات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ نتائج میں ہیرا پھیری کا امکان ہے۔ 2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ اور 347انتخابی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے درمیان تضاد پایا گیا تھا اور الیکشن کمیشن کئی مہینوں تک اپنی ویب سائٹ میں درست اعداد و شمار ظاہر نہیں کرسکا تھا۔ ای وی ایم (EVM) میں خرابی کی متعدد مثالیں ہیں جہاں ڈسپلے میں کسی بھی بٹن کو دبانے سے بی جے پی کے انتخابی نشان کے سامنے والا لائٹ جلتا ہے۔ پیپر بیلٹ سسٹم کی زبردست مانگ کے باوجود، مرکزی حکومت ای وی ایم سسٹم کا انتخاب کررہی ہے جو مکمل طور پر غیر جمہوری ہے۔ امریکہ جو تکنیکی طور پر ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے،
اس نے ای وی ایم سے پولنگ کے نتائج میں ہیرا پھیری کے دلیل کو قبول کرتے ہوئے پیپر بیلٹ سسٹم کو اپنایا ہے۔ایس ڈی پی آئی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ای وی ایم(EVM) کے استعمال کو ترک کردے اور مکمل شفافیت اور درستگی کیلئے ہندوستانی انتخابی نظام میں اصلاح لائیں۔ 2)۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی اور آئینی حقوق سے انکار۔ جموں کشمیر میں غیر انسانی پابندیاں عائد کرنے اور فوج تعینات کرنے کی وجہ سے عوام پریشانی میں ہیں۔ آرٹیکل 370کو منسوخ کرنا اور ریاست کو دو یونین پردیشوں میں تقسیم کرنا جموں وکشمیر کے لوگوں کو آئینی حقوق سے انکار ہے۔مرکزی بی جے پی حکومت کی طرف سے طاقتور فوجی طاقت کے ذریعہ اس اقدام کو مسلط کرنے سے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق سے انکار کے مترادف ہے۔
ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ جموں کشمیر میں آئین میں شامل آرٹیکل 370کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے اور کشمیری عوام کو اپنے بنیادی اور آئینی حقوق استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ 3۔ متھورا مسجد۔ ملک کی سا  لمیت کو ختم کرنے کی کوشش۔ ہندوتوا کی ایک انتہا پسند تنظیم فرقہ وارانہ زہر اگل رہی ہے متھورا مسجد کو تباہ کرنے کا دعوی کررہی ہے جو ملک کی سا  لمیت کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ ایس ڈی پی آئی انتباہ کرتی ہے کہ ایسی کوششیں نہ صرف ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ ہمارے ملک کا امیج بھی خراب کردیں گی۔