نئی دہلی: 24/ستمبر (پریس ریلیز) جمعیۃ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے آج نیوز ایم ایکس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کئی اہم سوالات کا سامنا کِیا.

مولانا نے کہا کہ ملک میں ایک طبقہ مسلمانوں کو حاشیے پر لگانے کی کوشش میں رہتا ہے، میں انہیں حاشیے پر لگائے جانے سے بچانے کے لیے جو طریقہ درست سمجھتا ہوں اسے اختیار کرتا رہوں گا. دراصل مولانا اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ جنیوا پریس کلب میں بیان دینے کی کیا وجہ تھی. مولانا نے اسی بابت کہا کہ عمران خان نے عالَمی فورَم پر ہندوستانی مسلمانوں کا لیڈر بننے کی کوشش کی ہے، میں ان کے اس آئیڈیا کو ریجیکٹ کرتا ہوں اور جس فورَم پر انہوں نے کوشش کی ہے وہیں جواب دوں گا. جب تک وہ اس خوش فہمی سے دست بردار نہیں ہو جائیں گے میں انہیں عالمی فورَم پر مسترد کرتا رہوں گا. مولانا نے بڑے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر کشمیری ہمارا نہیں ہے تو کشمیر بھی ہمارا نہیں، یہ ہمارا موقف رہا ہے اور آگے بھی یہی موقف رہے گا.

مولانا نے زور دے کر کہا کہ ملک کے ساتھ کھڑا ہونا، حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا اور حکمراں پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونا تین الگ الگ چیزیں ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی دوسرے پر محمول نہیں کِیا جانا چاہیے. میں ملک کے ساتھ ہوں، حکومت کے ساتھ نہیں ہوں بلکہ حکومت کی مخالفت بھی کرتا ہوں، البتہ میں حکومت کو گالی دینے کا شیوہ نہیں اختیار کِیا، جنہوں نے یہ شیوہ اختیار کِیا ہے انہوں نے کیا فائدہ پہنچایا؟

اس سوال کے جواب میں، کہ کیا آپ کو عالمی سطح پر ملک کی شبیہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کِیا جا رہا ہے؟ مولانا مدنی نے کہا کہ کسی کے لیے بھی استعمال ہونا، خصوصاً حکومت یا سیاسی جماعت کے لیے استعمال ہونا میرے لیے گالی ہے، لیکن میں فرض کر لوں کہ یہ الزام درست ہے، تو اگر شبیہ سنورنے ہونے کے ساتھ صورت حال بھی سدھر جائے تو یہ کام یابی ہو گی یا ناکامی ہو گی؟

دفعہ 370 ہٹانے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹانے کو لے کر ہم اس موقف پر نہیں ہیں جس موقف پر میڈیا ہمیں دکھا رہا ہے، اس اقدام پر ہمارے تحفظات ہیں مگر میں ان تحفظات کو بحث کا موضوع بنانے کے بجائے مرکوزیت رکھنا چاہتا ہوں. مولانا نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم دو جانب سے ہیں، اور دونوں ہی جانب کی حکومتیں ایک دوسرے سے کم نہیں ہیں، لہذا کسی ایک کے ظلم کو پوری طرح نظرانداز کر دینا غلط ہے.
ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ حزبِ اقتدار سے ملاقاتوں کا سلسلہ پہلے سے چلا آ رہا ہے اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ متمدن سماج میں مسائل بات چیت سے ہی حل ہونے چاہئیں. اسے اس نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے کہ حکمراں جماعت کا دوسرا ٹرم آنے کی وجہ سے قربتیں بڑھانے کی کوششیں ہیں. ہماری جانب سے ملاقات اور بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھُلا ہے.
اورنگ زیب اور شیواجی کا موازنہ کرنے والے اپنے بیان ہر مولانا نے کہا مجھے احساس ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے. میں شیواجی کی خواہ جتنی تعریف کروں مگر اورنگ زیب ایک ولی صفت بادشاہ تھے اور بحیثیت حکمراں بھارت کو بھارت بنانے میں ان کا عظیم کردار رہا ہے. حکمراں ہونے کی حیثیت سے ان کے بارے میں میرے اور بھی خیالات ہیں مگر شیواجی سے موازنہ کرتے ہوئے انہیں کمتر قرار دینے پر لوگوں کو جو تکلیف ہوئی ہے اسے میں بھی محسوس کرتا ہوں. میں دونوں کو دس میں سے دس نمبر دیتا ہوں.
بابری مسجد کے بارے میں مولانا سے سوال کِیا گیا کہ کیا مفاہمت کے عمل میں آئندہ آپ کا کوئی کردار ہو سکتا ہے؟ مولانا نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ جمعیت علمائے ہند کے دوسرے گروپ کے ذمے میں ہے اور میرا اس میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا. انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت کا اختلاف محض تنظیمی نوعیت کا تھا، مولانا ارشد مدنی پر ہمیں اعتماد ہے اور اسی لیے ہم نے تنظیم میں اختلاف ہونے کے باوجود خود کو اس مقدمے سے الگ کر لیا تھا. ہمیں جماعت اسلامی اور مسلم پرسنل لا بورڈ سے بھی یہ بے اعتمادی نہیں ہے کہ یہ دھوکا کر دیں گے. لہذا ہم اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے، لیکن اگر کسی بھی مسلم فریق کو ہماری مدد کی ضرورت ہوئی تو ہم ضرور حاضر ہوں گے، یہ ہماری ورکنگ کمیٹی کا فیصلہ ہے.