نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے نیشنل آرگنائزنگ سکریٹری اور لوک سبھا پارٹی لیڈر ای ٹی محمد بشیر کی صدارت میں پارٹی قومی خزانچی وراجیہ سبھا کے رکن پی وی عبدالوہاب، قومی نائب صدر و لوک سبھا پارٹی نائب صدرایم پی عبدالصمد صمدانی، انڈین یونین مسلم لیگ تمل ناڈو ریاستی نائب صدر اور لوک سبھا پارٹی ویپ کے۔ نواز غنی نے اقلیتوں کے ساتھ بی جے پی کے سلوک کے خلاف 3اگست 2022کو پارلیمنٹ احاطے میں موجود گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں لیڈران نے ‘اقلیتوں کو بچاؤ ‘ہندوستان کو
بچاؤ’اور بلڈوزر کے ذریعے اقلیت مخالف مظالم میں ملوث افراد کو سزا دو اور ہمیں انصاف چاہئے کہ نعرے لگائے۔
اس موقع پرلوک سبھا پارٹی لیڈر ای ٹی محمد بشیر نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 15اگست 1947سے پہلے قائم تمام مذہبی عبادت گاہیں اسی حیثیت میں جاری رہیں۔ مذہبی عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991میں کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جانی چاہئے۔ فی الحال نہ صرف دائیں بازو کی طاقتیں بلکہ بی جے پی بھی اس قانون کو منسوخ کرنے کی کوشش کررہی ہے جس سے لوگوں میں الجھن پیدا ہورہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان مذہبی عبادت گاہوں کے ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ بی جے پی تعلیم کو زعفرانی بنانے میں لگی ہوئی ہے۔
نصابی کتب کو زعفرانی رنگ دینے کا عمل جاری ہے۔ اس کارروائی کو بند کیا جانا چاہئے۔ یہ ہمارے بنیادی مطالبات ہیں، ہمیں امید ہے کہ اسے تمام پارٹیوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ بی جے پی حکمران ریاست اتر پردیش میں ریاستی حکومت ایک نئے طریقے کے طور پر کسی پر بھی فسادات کرنے یا فسادات بھڑکانے کا شبہ ہے تو بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے ان کے مکانات کو زمین بوس کردیا جاتا ہے۔ جس کی مختلف حلقوں سے مذمت کی جارہی ہے۔ اس طرح کی اقلیت مخالف بی جے پی حکومت کے اقدامات کے خلاف آج انڈین یونین مسلم لیگ کے ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج کیا ہے۔