نئی دہلی، 28 جولائی (اے یو ایس) کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے صدر کے بارے میں جو کہا تھا اس کے لئے وہ معافی مانگ چکے ہیں مسٹر چودھری نے یہ بھی کہا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور اس کے لیے انہوں نے پہلے ہی معافی مانگ لی ہے۔مسز گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زبردست ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد مسٹر چودھری پہلے ہی معافی مانگ چکے ہیں۔اس سے پہلے لوک سبھا میں بی جے پی کی اسمرتی ایرانی نے مسٹر چودھری کے بیان پر کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے اسے خواتین مخالف اور قبائلی مخالف قرار دیا اور کہا کہ کانگریس کو ایک غریب قبائلی خاتون کا صدارت تک کا سفر پسند نہیں آرہا ہے۔

اس کے لیڈر نو منتخب صدر دروپدی مرمو کے خلاف غلط بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے مسز گاندھی کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران محترمہ گاندھی بھی ایوان میں موجود تھیں۔مسٹر چودھری نے بعد میں ایک ویڈیو بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بی جے پی ان کی ایک کوتاہی کے لیے ہنگامہ کھڑا کر رہی ہے۔ بی جے پی کے پاس کانگریس کے خلاف بولنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس لیے وہ اپنی غلطی کو ایشو بنا کر ہنگامہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے غلطی سے صدر کے لیے غلط لفظ استعمال کیا اور وہ اس کے لیے پہلے ہی معافی مانگ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور اس پر افسوس کا اظہار کرچکے ہیں۔خیال ر ہے کہ بی جے پی نے مسٹر چودھری کے بیان کو بڑا ایشو بنا دیا ہے اور وہ پارلیمنٹ میں کانگریس پر حملہ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے جمعرات کو راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں زبردست شور وٖغل ہوا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔