ممبئی،22جون (اے یوایس) اودھو سرکار کا جانا تقریبا لگ بھگ طے ہوگیا ہے کیونکہ باغی ممبران اپنے موقف پر بضد ہیں۔ پارٹی کے کئی لیڈروں نے باغی رہنما ایکناتھ شندے کو منانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوئے۔ اس سارے گیم میں سابق وزیراعلی دیویندرفڈنویس کا اہم رول رہا ہے اور کس طریقے سے شیوسینا کے وزراء اور ممبران اسمبلی کو سورت پہنچا یا اس سے حکمران پارٹی بے خبر رہی۔ شیوسینا کی پارٹی میں بغاوت کے بعد ادھو ٹھاکرے کی حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے اور آثار یہ مل رہے کہ ریاست میں ازسرے نوانتخابات کرائے جائیں گے۔ باغی شیوسینا رہنما اے کے ناتھ شندے اپنے پارٹی کے 25ممبران اسمبلی کے علاوہ آزاد ممبروں کے ساتھ سورت سے گوہاٹی چلے گئے۔ تا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ پارٹی اعلی کمان سے نہ پڑے ایک ناتھ شندے نے دعوی کیا کہ ان کو 46ممبروں کی حمایت حاصل ہے سنجے راؤت نے کہا کہ جس طریقے سے سیاسی حالات ابھر رہے ہیں وہ اسمبلی کو برخاست کرنے کی طرف لے جا رہے ہیں۔

آج شیوسینا کے رہنما نے پارٹی ممبران کی میٹنگ طلب کی جس میں موجودہ صورتحال پرتبادلے خیال کیا جائے گا چونکہ ادھو ٹھاکر کوویڈ سے متاثر ہیں اس لئے وہ میٹنگ میں شریک نہیں ہوسکے۔ جب سے ریاست میں کونسل کے انتخابات میں مہاراشٹر آگاڑی سرکار کو جھٹکا لگا ہے اس کے بعد حکومت کے لئے پریشانیاں شروع ہوگئیں۔ اور ممبروں کی ایک بڑی تعداد ایکناتھ شندھ کے ساتھ مل کر پہلے سورت گئے اور ا سکے بعد انہیں خصوصی طیارے سے آسام لے جائیا گیا۔ وزیراعلی ہیمنت بسوا سرما نے ان کا استقبال کیا۔ اور ان ممبران کو پانچ ستارہ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ کونسل الیکشن میں کئی شیوسینا ممبران نے پارٹی کے ویپ کے خلاف ووٹ کیا۔ جس کی وجہ سے انہیں پھٹکار لگائی گئی۔