نئی دہلی، 24 ستمبر (یو این آئی) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے اردو کی بنیادی تعلیم کو اسکولوں میں پھر سے شروع کرانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ بچوں کا ادب تو کیا کوئی بھی ادب اس وقت تک زندہ رہے گا جب زبان کی تعلیم اسکول کی سطح پر دی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلور جبلی تقریبات کے افتتاحی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے گل بوٹے جیسے ادارے کی خدمات قابل ستائش ہیں انہوں نے گل بوٹے کے ایڈیٹر فاروق سید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے پروفیسر وں کو ایوارڈ دینے کے بجائے ان جیسے اردو کے خادموں کو ایوارڈ ملنا چاہیے، انہوں نے اس موقع پر اردو کی بنیادی تعلیم کو اسکولوں میں پھر سے شروع کرانے کے لیے قومی اردو کونسل کی کوششوں کا ذکر بھی کیا۔
ماہنامہ گل بوٹے ممبئی سلور جبلی تقریبات کے چار روزہ عالمی سمینار کا افتتاحی جلسہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہوا جس میں کناڈا سے تشریف لانے والے بچوں کے مشہور ادیب پروفیسر ادریس صدیقی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے بچوں کی کہانیوں کی چھ ہزار سالہ تاریخ کا احاطہ کیا اور کہاکہ بچوں کا ادب یا کہانیاں ہر دور میں موجود رہی ہیں اس کی شکل اور پیش کش بدلتی رہی ہے، ہندوستان میں بھی ماں کی گود سے ہی بچوں کو کہانیاں سنائے جانے کی روایت رہی ہے۔ انہوں نے کناڈا کے تعلیمی اداروں اور کتب خانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بچوں میں ادبی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تمام طرح کی کتابیں موجود ہیں اور پبلک لائبریری میں سب سے بڑا گوشہ بچوں کے ادب کا ہوتا ہے، وہاں کتابوں کے ساتھ ساتھ آڈیو بکس،سنگ الاؤنگ بکس، فیل اینڈ ٹچ بکس بھی دستیاب ہوتی ہیں. پروفیسر صدیقی نے سمینار کی سمت و رفتار کا تعین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی بچوں کے بدلتے مزاج کے مطابق کہانی اور بچوں کے ادب کی پیشکش کو بدلنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ جو بچے انٹرنیٹ کی وجہ سے کہانیوں سے دور ہوگئے ہیں انہیں ادب کی طرف واپس لانے کے لیے جدید وسائل کا استعمال کرنا ہوگا پروفیسر صدیقی نے ہندوستان کے طریقہ تعلیم کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے اس میں بنیادی تبدیلی لانے پر زور دیا۔