لکھنؤ،30دسمبر(اے یو ایس)اترپردیش میں برفیلی ہواؤں سے بڑھی ہوئی ٹھنڈ نے لوگوں کا حال بے حال کردیا ہے۔دریں اثناء ریاست بھر میں مغربی اترپر دیش سے آرہی شیت لہر سے چار دن میں 228لوگوں کی موت ہوگئی۔ جمعرات کو 47،جمعہ کو 48،ہفتہ کو 65،تواتوار کو68لوگوں کی موت ہوگئی۔واضح رہے کہ اترپردیش میں جاری شیت لہر کے درمیان اتوار کو میرٹھ، باندہ،ارئی،کانپور،جھانسی،غازی پور،ہردوئی،نجیب آباد شہروں میں کم سے کم درجہئ حرارت چار سے چھ ڈگری کے درمیان درج کیاگیا۔دوسری جانب سلطانپور، گورکھپور،وارانسی، لکھنؤ،فرصت گنج، بریلی، جھانسی، میرٹھ،بستی،بلیا، چرک، کانپور، اٹاوہ، کھیری، ہردوئی، شاہجہانپور، نجیب آباد، مرادآباد،حمیر پور،آگرہ میں زیادہ سے زیادہ درجہئ حرارت10سے14ڈگری کے درمیان درج کیاگیا۔

پورے اترپردیش میں کم سے کم درجہ حرارت معمول سے دو سے سات ڈگری کی گراوٹ بھی درج کی گئی۔لکھنؤ میں زیادہ سے زیادہ درجہئ حرارت13.5ڈگری جبکہ کم سے کم درجہئ حرارت6.9ڈگری رہا۔ریاست میں کانپور میں سب سے زیادہ21لوگوں کی موت ہوئی ہیں۔ٹھنڈ نے کانپور میں اسی سال دن کے درجہئ حرارت کا48سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجہئ حرارت 10.4 ڈگری سیلسیس رہا۔ اس سے پہلے1971میں زیادہ سے زیادہ درجہئ حرارت10.5ڈگری سیلسیس درج ہواتھا۔ٹھنڈکیوجہ سے مریضوں کے لیور اور گردے فیل ہورہے ہیں۔اور بندیل کھنڈو آس پاس کے علاقوں میں 22لوگوں کی موت ہوگئی۔پروانچل میں آٹھ اور اودھ میں چھ لوگوں کی موت ہوگئی۔امروہہ میں چار، علی گڑھ وہاتھرس میں دو اور رامپور،میرٹھ،مظفرنگر میں ایک ایک کی موت ہوگئی۔