46 Views
نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) قومی صدر ایم کے فیضی نے آسام حکومت کی جانب سے مدرسوں کو بند کرنے کے فیصلے کو اسلاموفوبیہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کی ہے اور آسام حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے۔ایم کے فیضی نے اپنے اخباری اعلامیہ میں مزید کہا ہے کہ شمالی ہندوستان میں حکومت کی مدد سے چلنے والے مدرسوں کا مقصد تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم کمیونٹی کو قومی دھارے میں لانا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں جو مدرسے چل رہے ہیں وہاں صرف اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں
اس کے برعکس شمالی ہندوستان میں حکومت کی مدد سے چلنے والے مدرسے جدید تعلیم اور اسلامی مذہبی تعلیم کا ایک مرکب ہے۔ ان مدرسوں سے صرف مسجد کے امام نہیں بلکہ ڈاکٹر، انجینئراور وکیل بن کر نکلتے ہیں۔ان مدرسوں اور دوسرے اسکولوں میں فرق یہ ہے کہ یہاں وہ جدید تعلیم کے علاوہ طلباء کو اسلامی علوم مہیا کیا جاتا ہے جس میں ریاض، سائنس، انسانیت وغیرہ شامل ہے۔ یہ نظام ان مسلم طلباء کو جدید تعلیم کی فراہمی کیلئے بنایا گیا تھا جو والدین مالی حالات کی وجہ سے اپنے بچوں کو جدید اسکولوں میں بھیجنے سے قاصر ہیں اور وہ اپنے بچوں کو صرف دینی علوم مراکز (مدرسہ) بھیجتے ہیں۔
اس طرح کے سرکاری امدادی اسکول دوسری شمالی ریاستوں جیسے بنگال اور بہار میں بھی چلائے جارہے ہیں۔ آسام میں سرکاری امدادی مدرسوں کی تعداد 614ہے اور یہاں پر سرکاری امداد کے بغیرنجی عطیات پر لگ بھگ 2000مدرسے چل رہے ہیں۔ آسام حکومت نے اس فیصلے کو سیکولر رنگ دینے کو کوشش کرتے ہوئے متوازن ایکٹ کے طور پر سنسکرت کے 97اسکولوں کو بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سنسکرت کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی کمی کی وجہ سے یہ سنسکرت کے اسکول پہلے ہی بند کرنے کے دہانے پر ہیں۔
وزیر تعلیم نے ایک سنجیدہ قیاس آرائی کی ہے کہ ‘اگر طلباء کو دینی نصاب فراہم کرنا ہو ں تو گیتا یا بائبل پڑھانے کیلئے لوگوں کے مختلف گروہوں سے مطالبات جنم لے سکتے ہیں ‘۔مدرسہ کا نظام کافی عرصے سے قائم ہے اور وزیر تعلیم کے کہنے کے مطابق ابھی تک کسی بھی گروپ کی طرف سے اس طرح کے مطالبات نہیں ہوئے ہیں۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا ماننا ہے کہ آسام حکومت کی اس کوشش کو ہندوستان میں خصوصا آسام میں مسلم کمیونٹی پر ظلم ڈھانے کے شیطانی فاشسٹ ایجنڈے کا ایک حصہ ہے جو پہلے ہی اپنی شہریت کھوجانے کے خطرے میں ہیں۔ ایس ڈی پی آئی آسام حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے اسلامو فوبک فیصلے کو واپس لے اور ریاست میں برادریوں کے مابین ہم آہنگی، بے خوفی اور امن کی فضا کویقینی بنائے۔