واشنگٹن،4مارچ(اے یوایس) امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے کے خدشے کے باعث ایوانِ نمائندگان کا جمعرات کو ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔کیپٹل پولیس نے بدھ کو خبردار کیا تھا کہ ملیشیا گروپ کی جانب سے کانگریس کی عمارت پر حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ایوانِ نمائندگان میں جمعرات کو پولیس ریفارمز بل پر بحث اور ووٹنگ ہونا تھی۔ تاہم کیپٹل پولیس کے انتباہ کے بعد یہ اجلاس اب جمعرات کو نہیں ہو سکے گا۔ہاؤس ڈیموکریٹک مشیر کا کہنا ہے کہ پولیس کا انتباہ خفیہ معلومات کی بنا پر جاری ہوا ہے جس کے مطابق ‘معلوم ملیشیا گروپ’

سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور اسی بنا پر ایوان کی طے شدہ کارروائی کے حوالے سے منصوبہ بندی تبدیل کی گئی ہے۔کیپٹل پولیس کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور کیپٹل کی سیکیورٹی کی سلسلے میں مقامی، ریاستی اور وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کیپٹل کی سیکیورٹی کے لیے پولیس نے پہلے سے ہی مناسب اقدامات کر رکھے ہیں۔یاد رہے کہ امریکہ میں کیپٹل ہل کی عمارت کو جمہوریت کی علامت تصور کیا جاتا ہے جہاں ایوانِ بالا (سینیٹ) اور ایوانِ زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان موجود ہیں۔

کیپٹل پولیس کے قائم مقام چیف یوگانندا پٹمین نے 25 فروری کو سینیٹ کی ایک کمیٹی میں پیش ہو کر اپنی گواہی کے دوران کہا تھا کہ چھ جنوری کو کیپٹل پر حملہ کرنے والے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ عمارت کو ‘اڑانا’ اور کانگریس ارکان کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔کیپٹل ہل پر حملے کے بعد سے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر عمارت کے اطراف امریکی فوج کے ریزرو اہلکار نیشنل گارڈز کی بڑی تعداد موجود ہے جب کہ مختلف مقامات پر رکاوٹیں بھی رکھی گئی ہیں۔یاد رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے چھ جنوری کو مذکورہ عمارت پر اْس وقت حملہ کیا تھا جب وہاں کانگریس کے ارکان موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کے لیے جمع تھے۔

یہ وہ موقع تھا جب اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت مکمل ہونے میں محض 14 روز باقی تھے اور وہ انتخابات میں شکست تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں نے جہاں عمارت میں توڑ پھوڑ کی وہیں اس ہنگامہ آرائی میں پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔کانگریس کی عمارت پر حملے سے قبل ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے وائٹ ہاؤس کے باہر خطاب کیا تھا اور اسی خطاب کی وجہ سے انہیں کیپٹل ہل پر چڑھائی کرنے والوں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام کا سامنا تھا۔ اس الزام پر ایوانِ نمائندگان نے 13 جنوری کو ان کا مواخذہ کیا تاہم سینیٹ نے 13 فروری کو ٹرمپ کو اس الزام سے بری کر دیا تھا۔کیپٹل ہل پر حملے کے الزام میں محکمہ انصاف نے 300 افراد پر فردِ جرم عائد کی ہے۔

گرفتار افراد میں دائیں بازو کی تنظیم اوتھ کیپرز، تھری پرسینٹر اور پراؤڈ بوائز شامل ہیں۔یاد رہے کہ اوتھ کیپرز اور تھری پرسینٹرز مسلح ملیشیا تنظیمیں ہیں۔کانگریس کیپٹل ہل میں ہنگامی آرائی پر متعدد سماعتیں کر چکی ہے اور ارکان کی جانب سے آئندہ چند روز کے دوران کیپٹل کی مستقل سیکیورٹی سے متعلق تجاویز سامنے آنے کی توقع ہیں۔