لندن،9مارچ (اے یوایس) اسلامی علما اور برطانیہ کے صحت عامہ کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروس کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں کورونا ویکسین لگوائی جا سکتی ہے اور اس کے لیے انھیں روزہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ماہ رمضان میں مسلمان دن کے اوقات میں کھانے پینے سے اجتناب برتتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں۔مذہب اسلام کی تعلیمات کے مطابق روزہ اختیار کرنے والے مسلمانوں کے صبح صادق سے مغرب تک ’جسم میں کچھ بھی داخل کرنے‘ یعنی کھانے پینے کی ممانعت ہوتی ہے۔لیکن برطانیہ کے شہر لیڈز کے ایک امام قاری عاصم کا کہنا ہے کہ کیونکہ کورونا کی ویکسین جسم میں خون کے بہاؤ کے بجائے جسم کے پٹھوں میں لگائی جاتی ہے اور اس میں کوئی غذائیت نہیں ہے اس لیے اسے لگوانے سے روزہ ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں ہے۔

قاری عاصم برطانیہ میں مساجد اور علما کے قومی مشاورتی بورڈ کے سربراہ ہیں۔ اْنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسلامی علما کی اکثریت کا کہنا ہے کہ رمضان میں روزے کی حالت میں ویکسین لگوانے سے روزہ مکروہ یا ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم برادری کو میرا پیغام ہے کہ اگر آپ ویکیسن لگوانے کے اہل ہیں اور آپ کو رجسٹریشن نمبر کے تحت ویکسین لگوانے کا دعوت نامہ مل چکا ہے تو آپ کو خود سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کورونا کی ویکیسن لگوائیں گے جس کی کورونا کے وبائی مرض کے خلاف افادیت ثابت ہو چکی ہے اور یہ آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتی ہے یا آپ کورونا کا شکار ہونے کا خطرہ مول لیں گے جو آپ کو کافی بیمار کر سکتا ہے، اور آپ ممکنہ طور پر رمضان کے تمام روزے چھوڑ کر علالت کے باعث ہسپتال داخل ہو سکتے ہیں۔‘