استنبول،27اکتوبر(اے یوایس) ترکی میں بے روزگار افراد اور بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے خوف ناک اعداد وشمار سامنے آئے ہیں۔ اس صورت حال کے پیچھے کئی برس سے ترک کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے عوامل کار فرما ہیں جن کے سبب ہزاروں افراد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ترکی میں Confederation of Progressive Trade Unions کے مطابق ملک میں 1.6 کروڑ شہریوں کو غربت اور 1.7 کروڑ دیگر افراد کو بے روزگاری اور کام کے مواقع میسر نہ ہونے کا سامنا ہے۔ اسی طرح ترکی میں 1.8 کروڑ افراد غربت کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ گئے ہیں۔

تین روز قبل ترکی میں "شماریات” کے سرکاری ادارے کی جانب سے جاری معلومات میں بتایا گیا کہ 2015ء سے اب تک ملک میں غربت کے سبب 1370 افراد خود کشی کر چکے ہیں۔ادارے کے مطابق رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران ترکی میں 54 افراد نے اپنی زندگیاں ختم کر ڈالیں۔ اس سے قبل 2018ء اور 2019ء کے درمیان ملک میں غربت اور بے روزگاری کے سبب 566 افراد نے خود کشی کی۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت سرکاری طور پر ملک میں 40 لاکھ بے روز گاروں کی موجودگی کا اعتراف کرتی ہے۔ تاہم کنفیڈریشن آف پروگریسو ٹریڈ یونینز اور معیشت کے ماہرین سرکاری ادارہ برائے شماریات کی جانب سے اعلان کردہ اس تعداد کے درست ہونے میں شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔

اس حوالے سے ترک کے ایک پروفیسر اور اقتصادی ماہر میرت بویوک کاراباجک کا کہنا ہے کہ "ملک میں کوئی بھی شخص حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار کا یقین نہیں کرتا”۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ "ترکی میں بے روزگاری کی شرح سرکاری طور پر 13% تک پہنچ رہی ہے۔