کابل،24جنوری (اے یوایس) امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سابق صدر ٹرمپ اور طالبان کے درمیان طے ہوئے افغان امن معاہدے کا جائزہ لے گی۔امریکی صدارتی دفتر کی ترجمان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہتا ہے کہ افغان طالبان ملک میں تشدد میں کمی اور دہشت گرد عناصر سے اپنے تعلقات ختم کرنے سمیت اس معاہدے کے تحت کیے گئے ‘اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں ‘امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلیٰ مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے اس جائزے کی تصدیق کے لیے افغان حکام سے بات کی ہے۔

افغانستان میں حالیہ چند ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔افغانستان میں امریکہ فوجی کی موجودگی کی تاریخ سنہ 2001 سے شروع ہوئی جب امریکی فوج نے گیارہ ستمبر کے بعد طالبان کی حکومت گرانے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا گیا تھا۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک طالبان ایک عسکریت قوت کی حیثیت سے دوبارہ منظم ہوگئی اور 2018 تک منتخب ہونے والی حکومتوں کے لیے ایک خطرہ بنی رہی اور افغانستان کے دوتہائی سے زیادہ حصے میں سرگرم عمل رہی۔افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے رواں ماہ بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ نے اس افغان امن معاہدے میں طالبان کی بہت سے شرائط مان لی تھی۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغانستان سے ترجیحی بنیادوں پر اپنی فوج واپس بلانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔گذشتہ برس فروری 2020 میں طے پانے والے معاہدے میں کہا گیا تھا کہ اگر طالبان اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہیں اور اگر وہ القاعدہ یا دیگر عسکریت پسندوں کو وہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں کام نہیں کرنے دیں گے اور قومی امن مذاکرات کے تحت آگے بڑھیں گے تو امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی 14 ماہ میں تمام فوجیں افغانستان سے واپس بلا لیں گے۔البتہ قدامت پسند اسلامی تحریک طالبان نے اس تاریخی معاہدے کے تحت بین الاقوامی فوجوں پر حملوں کو روک دیا تھا مگر وہ افغان حکومت کے ساتھ لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔