17 Views

تہران،18اکتوبر(اے یوایس) آج 18 اکتوبر اتوار کے روز ایران پر عاید کی جانے والی اسلحہ کی خرید و فروخت سے متعلق پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ پابندیاں ختم ہوتے ہی دوسرے ملکوں سے اسلحہ کے حصول کے بڑے بڑے معاہدے کرے گا۔تاہم ایران کے لیے یہ سب کہنا تو آسان ہوگا مگر اس پرعمل کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ امریکا نے ایران پر اقوام متحدہ کی تمام سابقہ پابندیاں بحال کر کے ایران کو کافی مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ ایران سے اسلحہ کی خرید و فروخت کافی مشکل ہو گی یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک نے ایران کے ساتھ کسی دفاعی ڈیل کے منطقی انجام تک پہنچنے کے حوالے سے تشکیک کا اظہار کیا ہے۔

گذشتہ بدھ کو ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر اسلحہ کے حصول اور فروخت پرپابندی ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد ایران کسی بھی ملک سے کسی بھی وقت اسلحہ خرید بھی سکتا ہے اور اپنے ہاں تیار کردہ جنگی ہتھیار فروخت بھی کرسکتا ہے۔ایرانی صدر کی طرف سے اسلحہ کی خرید و فروخت سے متعلق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کی معیشت بد ترین دور سے گذر رہی ہے۔ ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نچلی ترین سطح?پر ہے۔ افراط زر نے معیشت کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔دوسری طرف ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے عاید کردہ معاشی پابندیوں سے وہ دنیا کیدوسرے ملکوں سے تجارت کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔