44 Views

ٹائیگر فورس کنونشن سے وزیر اعظم عمران خان کا خطاب:

اسلام آباد،18اکتوبر(اے یوایس) پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ روز گوجرانوالہ میں ہونے والے حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد کے جلسے کو ‘سرکس’ قرار دیتے ہوئے حزب اختلاف کے رہنماؤں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اب اپوزیشن کو ایک مختلف قسم کا عمران خان دیکھنے کو ملے گا اور چوروں اور ڈاکوؤں کو کوئی پروڈکشن آرڈر نہیں دیا جائے گا۔وزیر اعظم اسلام آباد میں جناح کنونشن ہال سے ٹائیگر فورس کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جہاں انھوں نے کارکنان کو خراج تحسین پیش کیا اور ملکی سیاست پر بات چیت کی۔’

ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے جلسے کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے اسے ’سرکس‘ قرار دیا اور کہا کہ گذشتہ رات کے جلسے میں دو بچوں نے تقریر کی تھی وہ اس پر بات نہیں کریں گے۔مسلم لیگ نواز لیگ کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا نام لیے بغیر وزیر اعظم نے کہا کہ ان دونوں پر تبصرہ کرنا وقت کا ضیاع ہے اور ان دونوں کو ٹیم کا 12 واں کھلاڑی قرار دے دیا۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے نام سے بنے اتحاد میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کا حملہ آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف خود ملک سے باہر بھاگ گئے اور وہاں سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔

گذشتہ روز نواز شریف نے اپنی تقریر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا سکیورٹی سٹیبلیشمنٹ کی وجہ سے عمران خان حکومت میں آئے ہیں۔واضح رہے کہ نواز شریف کی یہ تقریر ملک میں کسی ٹی وی چینل پر نشر نہیں کی گئی تھی تاہم سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ تقریر دکھائی گئی اور واٹس ایپ پر یہ تقریر شئیر کی گئی۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ‘یہ وہ شخص ہے جو ضیا الحق کے جوتے پالش کرتے وزیراعلیٰ بنا تھا۔’ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف وہ شخص ہیں جنھوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو دو مرتبہ جیل میں رکھا تھا۔انھوں نے کہا آصف علی زرداری نے نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دائر کرایا تھا، جنرل باجوہ نے مقدمہ نہیں کیا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی عدالتوں نے نواز شریف کی مدد کی۔