مجھ سے اس کی چاہتوں کا قرض ادا ہوتا نہیں
میں خفا ہوتی ہوں لیکن وہ خفا ہوتا نہیں

عقل ہے کچھ اور کہتی، دل ہے کہتا اور کچھ
ساتھ اس کا دوں نہ دوں یہ فیصلہ ہوتا نہیں

اپنی آنکھیں بند کرکے دیکھ لیتی ہوں اسے
مدتوں جب میرا اسکا سامنا ہوتا نہیں

کوششیں کیں لاکھ، اس کا نقش دل سے دوں مٹا
کوششیں بے سود وہ دل سے جدا ہوتا نہیں

وقت کر دیتا ہے بےبس آدمی کو ورنہ تو
ہر محبت کرنے والا بےوفا ہوتا نہیں

یہ ضروری تو نہیں آنکھوں کا دیکھا سچ ہی ہو
جو نظر کو سچ لگے وہ سچ سدا ہوتا نہیں