مسرور جہان کون تھیں۔

بزرگ افسانہ نگار رتن سنگھ نے مسرور جہاں کے بارے میں لکھا ہے۔ پچاس کی دہائی میں مسرور جہاں کی کہانیاں چھپنی شروع ہوئیں تو لکھنؤ کے ادیبوں کی ٹولی میں یہ باتیں ہونے لگیں۔۔۔
"یار، یہ لڑکی کون ہے؟”
بھگوتی چرن ورما کی زبان میں کہوں تو ان کی خوبصورت لکھنوی زبان اور کہانی کے فن پر عبور کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا تھا:
"یہ سکہ تو ٹکسالی ہے”۔۔۔
"وہ تو ہے مگر یہ ادبی جلسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتیں؟ آخر سب آتے ہیں۔”
"رضیہ سجاد ظہیر آتی ہیں۔ شمیم نکہت آتی ہیں، سروپ کماری بخشی آتی ہیں۔ یہ کیوں نہیں آتیں؟”
کسی نے اندازہ لگایا: "کوئی مرد ہے جو لڑکی کے نام سے لکھتا ہے۔”
"نہیں۔۔۔ کوئی لڑکی ہے”۔۔۔
"نہیں! کوئی کہانی ہے۔ کہانی ہی کہانی کو لکھتی ہے”۔۔۔
۔۔۔ آخر پتہ چلا کہ پردہ دار لڑکی ہے۔
یہ تو سب قیاس کی باتیں تھیں۔ آخر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ قیاس لگانے والی ٹولی بکھر گئی۔ بقول اقبال مجید:
یوں اجڑی احباب کی محفل
کسی سے پوچھیں کون کہاں ہے
اقبال مجید خود سیتاپور چلے گئے۔ قیصر تمکین نے انگلینڈ کی راہ لی۔ محمد حسن، قمر رئیس۔۔۔ قاضی عبدالستار، نجم الحسن، رضوان احمد۔۔۔ احمد جمال پاشا، حسن عابد، سبط اختر۔۔۔ ان میں سے کوئی دہلی چلا گیا تو کوئی علی گڑھ، کوئی پاکستان جا کر بس گیا۔۔۔ اس دوران مسرور جہاں کی کہانیاں چھپتی رہیں۔ پھر یہ ہوا کہ پندرہ بیس سال پہلے ان کی کہانی "شال فروش” مہاراشٹر کے آٹھویں درجے کے نصاب میں لگی تو مسرور جہاں اردو دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔۔۔ یعنی انہوں نے ثابت کردیا کہ: "سکہ واقعی ٹکسالی ہے۔ سچا سجا موتی۔۔۔”۔
پھر یہ ہوا کہ تاجکستان کے ایک اسکالر جاوید خولوف نے ان کے افسانوں پر پی۔ایچ۔ڈی کی ہے اور ان کا مقالہ تاجک اور روسی زبان میں ترجمہ ہوا تو مسرور جہاں کی ادبی حیثیت ایک طرح سے بین الاقوامی ہو گئی۔ جہاں تک میں جانتا ہوں اردو ادب میں یہ اعزاز صرف دو کہانی کاروں کو حاصل ہے۔ ایک جیلانی بانو اور دوسری ہیں مسرور جہاں۔
اگر سارے کہانی کاروں کو جمع کیا جائے تو بھی اکیلی مسرور جہاں کا کام ان سب سے زیادہ ہے۔ یہ کم و بیش 500 کہانیوں اور 65 ناولوں کی مصنفہ ہیں۔
(حوالہ: "مسرور جہاں کی کہانی” از: رتن سنگھ۔ مسرور جہاں کا افسانوی مجموعہ ‘خواب در خواب سفر’ سن اشاعت: 2016)

وقار ناصری نے مسرور جہاں کے افسانوں کے ایک مجموعہ کا تعارف کرواتے ہوئے لکھا ہے۔
نقادوں سے دور اور گروہ بندیوں میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے مسرور جہاں کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کی وہ بجا طور پر مستحق تھیں۔ اس کے باوجود ان کے کئی افسانے، پنجابی، تامل، تلگو، کنڑ، ملیالم اور بریل اور روسی زبان ترجمہ ہو کر شائع ہو چکے ہیں۔

نگہت سلطانہ عابدی نے "مسرور جہاں: فن اور شخصیت” پر مقالہ لکھ کر ڈی-لٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کا ایک افسانہ "سلیب پر ٹنگی زندگی” دہلی دودرشن سے ڈرامے کی شکل میں دو قسطوں میں ٹیلی کاسٹ ہو کر مقبول ہو چکا ہے۔

مسرور جہاں کے دادا مدرس شیخ مہدی حسین ناصری لکھنوی کا شمار معروف شعراء و ادباء میں ہوتا تھا۔ انکے شاگردوں میں فراق ؔگورکھپوری اور ڈاکٹر پروفیسر اعجاز حسین مرحوم شامل ہیں۔ مسرور جہاں کے والد ماجد کا نام نصیر حسین تھا جو بلند پایہ شاعر تھے اور خیال ؔتخلص کرتے تھے وہ بھی تدریس کے پیشہ سے وابستہ تھے انھوں نے برسوں اسلامیہ کالج، لکھنؤ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئے۔ انکے شوہر نواب سید محمد مرتضیٰ علی خاں کا تعلق آغا میر کے خاندان سے تھا۔ مسرور جہاں ایک بھر پور ادبی زندگی گزار کر آج 93 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔