یہ بے پناہ جو رنج و الم حسینؑ کا ہے
صراطِ صبر پہ اگلا قدم حسینؑ کا ہے

بہت سے لوگ یہاں آئے اور چلے بھی گئے
ہمیں کسی کا نہیں صرف غم حسینؑ کا ہے

یہ شامِ سرخ بتاتی ہے رازِ ہست ہمیں
کرم کے دن ہیں سو ہم پر کرم حسینؑ کا ہے

ہمارے دل میں ہے روشن وہ ایک اسمِ عظیم
ہماری آنکھ میں جتنا ہے نم حسینؑ کا ہے

نہال ہیں جو سبھی اُن کا نام لیتے ہیں
بلند ذکر یہاں دم بدم حسینؑ کا ہے،،