کیا قید صرف تنگ و تاریک کمرے سناٹے اور تنہائ کا نام ہے ؟ 
قید چکاچوند کرتی چبھتی روشنی بھی ہے جب آپ کو اندھیرے کے نرم اور گہرے سکون میں ڈوبنے سے روکا جاۓ۔ 
قید لوگوں کا ہجوم بھی ہے جب آپ کو اپنا آپ میسر نہ ہو اور آپ کی تنہائ آپ سے زبردستی چھین لی جاۓ۔ 
قید کھلی فضا بھی ہے جب آپ کو چار دیواری اور بند کمرے کی حفاظت سے محروم رکھا جاۓ۔ 
قید چیختا چلاتا شور بھی ہے جب آپ مکمل خاموشی کے حصول کے لیے کچھ دیعر ماحول سے علیدگی اختیار کرنے کا اختیار نہ رکھتے ہوں۔ 
قید ایسے حالات کا نام بھی ہے جو آپ پر لاد دیے جائیں اور آپ اپنی مرضی سے اُن حالات سے نکل نہ سکیں۔ 
قید ایسے رشتے بھی ہیں جو آپ کی زندگی کے قیمتی سال کھا جاتے ہیں مگر ان رشتوں کو توڑ کر نئے رشتے بنانے کا اختیار آپ سے چھین لیا جاتا ہے۔ 
قید ہماری وہ عادت بھی ہے جو ہم خود سے اور سب سے چھپاتے ہیں مگر اسے چھوڑ نہیں سکتے۔ اپنے ہی سامنے بےبس محسوس کرتے ہیں۔ 
آزادی اختیار کا نام ہے۔ جب اختیار چھین لیا جاۓ تو قید کرنے کے لیے قید خانے یا زندان کی ضرورت نہیں رہتی۔