388 Views

وہ ایک عورت ہے
اس کا اپنا کچھ بھی نہیں
اس کے گناہ اس کے اپنے گناہ نہیں
وہ ایک کے ڈر سے دوسرے کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے
بھوکی رہ لیتی ہے مگر چار دیواری کے حصار بنا نہی سکتی
سر چھپانے کو چھت مل جاتی تو اس لالچ میں اپنی روح تک بیچ دیتی ہے
اکتایا ہوا ٹالتا ہوا لمس ہی مل جاتا ہے تو چھوٹے اور جھوٹے لمس پراکتفا کرلیتی ہے
اور نہ ملے تو بھی کیا۔
مردار رشتوں کی تعفن زدہ لاشوں کے بیچ سانس لیتی
اور ڈر میں گھری ہوئی کہ دنیا کہیں بو نہ سونگھ لے
پیچھا کرتے گدھ کہیں مردار کی بو پاکر بوٹی بوٹی نہ نوچ لیں
وہ عاشق بننا تو دور، معشوق بننے کا بوج بھی زیادہ عرصہ برداشت نہیں کرپاتی
آخر عورت کا محبت سے تعلق ہی کیا
ایک قیدی کی محبت کیا اور نفرت کیا
وہ ایک عورت ہے
اس کا اپنا تو کچھ بھی نہیں
کم سنی میں ہی عورت بننے سے ڈرنے والی لڑکیاں
وجود میں ہونے والی تبدیلیوں سے خوفزدہ
خود سے گھن کھاتی لڑکیاں
اہنے جسم کی ساخت سے شرمندہ
اپنے وجود کو خود بھی تو قبول نہیں کرتی
جب شادی ہوتی ہے تو
والدین کو احسان بھری نظروں سے دیکھتی ہیں
اور پھر تھڑی سی گردن اکڑا لیتی ہیں
کہ اج سے میں تم پر بوج نہیں
دوسرے لمحے شوہر کو دیکھ کر سرجھکا لیتی ہیں
کہ اج سے مالک بدل گیا ہے
اور پھر شادی کے بعد
عورتیں اپنی جنسی خواہش
کبھی کم کبھی زیادہ فکر کرنے کی کوشش میں
شوہر سے مطابقت کرنے کی کوشش میں
اپنا ہی توازن بگاڑ بیٹھتی ہے
وہ ایک عورت ہے
اس کا تو اپنا کچھ بھی نہیں ہے
اس کے فیصلے اپنے فیصلے نہیں
اس کے الفاظ کسی اور کی کہی بات ہے
اس کے خیال کسی اور کے خیال ہیں
اس کا اظہار محبت کسی اور کے خیال ہیں
اس کا اظہار محبت کسی اور کے اظہار کا جواب ہے
وہ ایک عورت ہے
اس کا اپنا کچھ بھی نہیں
مگر میں وہ عورت نہیں
میرے گناہ میرے اپنے گناہ ہیں
میرے ثواب میرے اپنے ثواب ہیں
مجھے اپنے جسم سے محبت ہے کیونکہ یہ میرے روح کا گھر ہے
میں اپنی جنسی خواہش پر شرمندہ نہیں
میرے الفاظ میرے اپنے ہیں
میرے خیال میرے اپنے ہیں
میری سوچ میری اپنی ہے
فرشتہ اور شیطاب دونوں میرے اندر موجود ہیں
میں اپنے فرشتے اور شیطان کو بخوبی پہچانتی ہوں
میں اپنے ہر روپ کو قبول کرتی ہوں
میں ایک عورت ہوں
اور مجھے اپنے عورت ہونے پر فخر ہے

(عینی خان