کچھ بھی نہیں
– – – –
کچھ سماعت سے
ہمہ وقت عجب چھیڑ سی ہے
کوئ آواز
کہ آواز کا کولاز کوئ
ایک حصّے میں
کھلا آسماں بادل جنگل
شہر کہسار فلک ابر ہوا
اور
سرگوشئ محبوب ابد
ایک حصّے میں
دھنک رنگ لکھے رقص دھمال
ایک حصّے میں
قرینے سے سجے پھول کتاب
ایک حصّے میں
کوئ
خود کے کف دست پہ ہی
خاک بہ سر بکھرا ہوا
ایک حصّے میں
مچلتی سی کوئ لَو
کہ ادا رقص میں ہے
ایک حصّے میں
کھنکتے کئی سکّے
جیسے
سسکیاں
شہد ترنّم میں گھلی
یا کہ
شب خواب لباسی مہ دلآرا کی
یا لب نہر رواں سروقدی
ایک حصّے میں ہے
انبوہ گراں گریہ بار
ایک حصّے میں
لہو غسل کراۓ گئے لوگ
ایک حصّے میں
بدن دشت کی عریانی سے
جھانکتی آنکھ کی حیرانی ہے
ایک حصّے میں
ظفریاب کراۓ گئے لوگ
ایک حصّے میں
سر فرش بچھایا ہوا میں
نیند کی آنکھ میں گھونپی ہوی
اک تیز چھری
ایک حصّے میں
پھپھولے دل کے
شاخ زیتون سے لکھتا ہوا
اک نظم نگار
اور اس گنبد اسرار میں
کچھ بھی تو نہیں
کچھ بھی نہیں !!