بچی نے ابھی

ایک پستان کا دودھ پیا تھا

نائیکہ ہاتھ میں

گلوریوں  کی تھالی تھامے آ دھمکی

اور وہ

بچی کی پیاس کے گھنگھرو

پاؤں پہ باندھے

پیٹ کی لے پہ نا چنے لگ گئی

وہی کمرہ

وہی ڈگڈگی

وہی دیواروں کے ساتھ چمٹی

ہوس زدہ سانسوں کی سیلن

وہی گوشت کو نوچتے ہاتھ

وہی بدن پہ پھسلتی کاٹتی نظریں

وہی نائیکہ کی نہ بھرنے والی گُھتلی

وہی گندی خواہشوں کی پچکاریوں سے بھرااُگلدان

سب کچھ وہی تو ہے

جو صدیوں سے ہے

کچھ بھی تو نہیں بدلا

اب وہ ہوگی

پیٹ کی لے پہ اس کا تھرکتا جسم ہو گا

وسکی ملے تیز تمباکو کے ہوس زدہ

بھبکے ہوں گے

اور وہ

اپنا سارے کا سارا وجود

حوالے کر دے گی

سوائے اس حصہ کے

جہاں بچی کی بھوک مٹانے

کوقدرت کی عطا کردہ

خوراک منتظر ھے