(ہوا سے مکالمہ)

میں زندگی سے طلاق لے کر
موت سے بیاہ رچاتے
اپنی ہتھیلی پہ
اس کا نام لکھوں گی
جس کے ساتھ مجھے بھاگ کر شادی کرنا تھی
۔
مجھے کبھی بھی
پسند نہیں رہا
حوروں کی ملکہ بننا
اور وہ بھی اس بدمعاش کی
جو دنیا میں
مجھے خوش کرنا نہیں جانتا
۔
میں نے کیا کرنی ایسی جنت
جس کے لالچ میں
شادی کے نام پہ ناجائز بچے جنیں جائیں
چادر چار دیواری میں
رشتے درندے بن جائیں
محرم کی اولاد
کوڑے دان میں پھینکنی پڑے
۔
میں ہر بار
ممنوعہ پھل کھاؤں گی
مجھے وہاں نہیں رہنا
جہاں ریشمی اطلس پہنے حوریں
میرے محبوب کو جنسی دعوت دیں
اور میں
نگینے جڑے تخت پہ بیٹھی انتظار کروں

۔
اے میرے ہم خیال!
آؤ منافقت سے پاک کسی جزیرے پہ چلیں۔