سب کا ضمیر بک گیا کردار بِک گئے

جن پر ہمیں غرور تھا وہ یار بِک گئے

وہ جن کو اپنی نسبتِ اعلی کا زعم تھا

دشمن کے ہاتھ ان کے سبھی وار بِک گئے

سب کا ضمیر بک گیا  کردار بک گئے

اپنوں سے چوٹ کھائی ہے شکوہ کہاں کریں

کیا اس پہ دکھ جتائیں کہ اغیار بِک گئے

مقتول میں تھا اور مجھے مجرم بھی لکھ دیا

ہاتھوں میں ان کے شہر کے اخبار بِک گئے

ہر بار ان کو قافلہ سالار  چن لیا

ہر بار اپنے قافلہ سالار بِک گئے

پھر یہ ہوا  عدو نے انھیں دام دیدیا

پھر یوں ہوا کہ میرے طرف دار بِک گئے

دیکھی ہے شیخ آپ کے تقوے کی چاندنی

دیکھے ذرا سے درہم و دینار بِک گئے

ہم بے زبان جن کو سمجھتے تھے ترجماں

اب کیا کریں وہ صاحبِ گفتار بِک گئے

اہلِ حرم کو آج خدا جانے کیا ہوا

کیوں آج ان کے جبہ و دستار بک گئے

بکنا تھی جن کی خو ، انھیں آیا نظر مفاد

پھر چیز کیسی شرم ہے کیا عار بِک گئے

انمول کہہ رہا تھا نذیری جنھیں جہاں

لے آئے خود کو برسرِ بازار بک گئے

مسیح الدین نذیری

انتخاب۔۔ایاز الشیخ