زندگی بورنگ ہوچکی ہے
ایک دم رکی ہوئی سی
جیسے چھاتیوں کے مقابل
کھلتا سینہ تنگ پڑ جائے
شاید یہ میری گھٹن
جوان بیوہ کی جیسی ہے
میرے اندر لگا زنگ 
نہ جانے کب کریک ہوگا
سب سے بوریت کے اس مقام پر
معلوم نہیں کیوں
مجھے وہ لڑکی یاد آ رہی ہے
جو بدصورت بھی نہیں تھی
اجنبی شہر کے پرانے ہوٹل کے
تنگ سے کمرے میں
جسے میں نے
چھونے سے انکار کر دیا تھا۔