بہت دن سے یہ لگتا ہے
دکھی ہوں میں
کنوئیں میں ہاتھ دو تو
کوئ لاشہ نکلتا ہے
نہ میں جرعے میں آتا ہوں

بہت گہرائی میں جا کر
کوئ تارہ چمکتا ہے
سیہ پانی کے کالے آئنے پر
دھوئیں میں آگ رکّھی ہے
کوئ اک شور برپا ہے
بدن میں مٹھیاں کستا
کوئ کانوں میں اکثر چیختا ہے
زباں اظہار کو دینی ہی ہو گی

مگر سنتا نہیں کوئ
ابھی بھی لوگ سہمے ہیں
نہ دیواروں میں
مٹی کے بجوکے چن دیے جائیں
کہ وہ جو صبح آنی تھی
لہو صدقے میں لے کر
وہ کوئ خواب تھا
جس خواب کی تعبیر الٹی ہے
نہ پھندے ہی گلے کے
نہ زنجیریں کٹی ہیں
بدن اب بھی
صلیبوں پر ٹنگے ہیں
ابھی ڈائر کے مرنے کی خبر کوئ نہیں ہے
ابھی بھی باغ جلیاں
جبر کے گھیرے میں سہما ہے