خود پسندی کی کوئی حد ہے! نہیں دِکھتا کیا؟ 
تم کو اپنے سوا کوئی اور نہیں دِکھتا کیا؟ 
مجھ کو کہتے ہیں کے باہر زرا نکلو خود سے
تم کو دنیا میں سوا اپنے، نہیں دِکھتا کیا؟ 
درد کے تیر بھی نشتر بھی بہت کھاۓ ہیں 
اور تذلیل کے پتھر بھی بہت کھاۓ ہیں 
تب بھی میں ساتھ تھی اور ساتھ رہوں گی میں ہی
خود سے رشتہ نہیں ٹوٹے گا، نہیں دِکھتا کیا؟ 
میں نے جب دار پہ جاتے ہوۓ مڑ کر دیکھا 
نہ کوئی دوست، نہ احباب، نہ کوئی اپنا 
غیر تو غیر تھے حیراں میں ہوئی دیکھ کے یہ 
نہ زمیں پر تھا نہ دیوار پہ سایہ اپنا 
میرے پیروں میں جس وقت تھی زنجیر پڑی 
کیا کوئی اور بھی زنداں میں رہا ساتھ میرے؟ 
میرے دکھ، میری اذیت اور میری گھٹن 
کیا کوئی اور بھی سہتا رہا سب ساتھ میرے؟ 
مجھ کو کہتے ہیں کے باہر زرا نکلو خود سے 
تم کو دنیا میں سوا اپنے نہیں دِکھتا کیا؟ 
تب بھی میں ساتھ تھی اور ساتھ رہوں گی میں ہی
خود سے رشتہ نہیں ٹوٹے گا، نہیں دِکھتا کیا