فیمنزم یا تحریک حقوق نسواں پر مصدقہ کتب سے اکٹھا کیا ہوا مواد قارئین کیلئے اردو میں پیش کر رہی ہوں۔
سب سے پہلے تحریک حقوق نسواں کی تعریف کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے،
آسان الفاظ میں اٹھارویں، انسیویں اور بیسویں صدی میں یورپ اور امریکی خواتین کیلئے سیاسی، تعلیمی، معاشی اور جنسی حقوق کے لیے چلنے والی مختلف تحاریک کو تحریک حقوق نسواں کہا جاتا ہے۔
ہمارے مشرق میں تاثر ہے کہ مادر پدر آزادی کا مطالبہ فیمنزم ہے، ایسا ہرگز نہیں ، بغیر پڑھے اور تحقیق کیے کسی عقیدے پر ایمان نہیں لے آنا چاہیے۔
حقوقِ نسواں کی جڑیں قدیم یونانی شاعرہ سپھو (Sappho) ، ڈارک ایجز میں کرسٹین ڈی پسان (Christine de pisan) سے نکلتے ہوئے سترویں اور اٹھارویں صدی میں اولمپس ڈی گوش (Olympus de Gouge), میری ولسٹون کرافٹ (Mary Wollstonecraft) اور ناول نگار جین اوسٹن (Jane Austen) سے جا ملتی ہیں۔
ان تمام خواتین نے اپنی تحریروں کے ذریعے، عورت کے وقار، ذہانت اور بحیثیت انسان نشونما پر حاصل خاطر بحث کی۔ انہی تحاریر کی روشنی میں انیسویں صدی کے آواخر میں باقاعدہ فیمینسٹ تحریکیں لہروں کی شکل میں چلیں۔
ان تمام تحاریک پر ایک ایک پوسٹ لکھی جائے گی اور مختصراً تھیوری اور پریکٹیکل کو زیرِ بحث لایا جائے گا۔