پہلا شخص: سن بھائی تیرے پاس کالا سوٹ ہے؟

دوسرا شخص: ہاں ہے مگر کیوں ؟

پہلا شخص: یار رات سے کھانا نہیں کھایا، سوچ رہا ہری پگ اُتار دوں، کڑا مجھے گھر سے مل گیا ہے، تو سوٹ دے دے تو ان دس دنوں میں مفت حلیم ہی مل جائے گا۔

پہلا شخص: مگر یار تُم تو کہتے تھے شیعہ۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا شخص: کہتے تو ہم صوفیوں کو بھی ہیں، مگر لال شہباز قلندر کے مزار سے نیاز بھی بھر بھر لاتے ہیں، چھوڑو یار باتیں، کالا سوٹ لا دو، بھوک کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا!