ایسا لگتا ہے اب عمر ہونے لگی ہے
آنکھیں کمزور پر نظر پختہ ہونے لگی ہے۔ 
کچھ ہے یاد اور کچھ کچھ بھولتا جاتا ہوں 
چہرہ اور نام ساتھ کم ہی یاد کر پاتا ہوں 
بھول گئی جو بات یاد کرنے میں دقت ہونے لگی ہے۔
ایسا لگتا ہے اب عمر ہونے لگی ہے۔
کافی کا کپ ہاتھ میں تھامے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں 
بچپن میٹھا جوانی تیکھی ،سب چکھا، یہ سوچ رہا ہوں 
اب تو کڑوے ذائقے کی طلب ہونے لگی ہے۔ 
ایسا لگتا ہے اب عمر ہونے لگی ہے۔ 
بچپن بارش کو چُھوتا ہے اور جوانی کو چُھوتی بارش
کمرے میں کتاب پڑھتے، سنتا ہوں اب رم جھم
بنا چھوئے محسوس کرنے کی رغبت ہونے لگی ہے۔ 
ایسا لگتا ہے اب عمر ہونے لگی ہے۔ 
میری سنو، اپنی کہو، پاس رہو تب کہتے تھے
تنہائی میں احساس بنو اور ساتھ رہو اب کہتے ہیں 
تمہاری خاموشی سن لینے کی عادت سی ہونے لگی ہے۔ 
ایسا لگتا ہے اب عمر ہونے لگی ہے۔ 
جسم کا بڑھاپا تو شعور کی جوانی ہے 
جھریاں جو پڑتی ہیں زندگی کی نشانی ہے 
ہو رہا ہوں قیمتی بالوں میں چاندی اُترنے لگی ہے 
ایسا لگتا ہے اب عمر ہونے لگی ہے۔ 
چشمہ لگ گیا تو کیا میں اب بھی پڑھ سکتا ہوں 
اُس کے دل کا حال اس کے چہرے پر پڑھ سکتا ہوں 
دل کے ٹکڑے سے دور جانے کی فکر ہونے لگی ہے۔ 
ایسا لگتا ہے اب عمر ہونے لگی ہے۔