463 Views

کہانی : آخری مباشرت

عون نے اسکو پروپوز کرنے کیلئے شہر میں موجود سب سے اونچی پہاڑی کا انتخاب کیا تھا، وہ چاہتا تھا خدا اور پھر پورا شہر بھی اُنکا گواہ بنے۔ یوں ایک سادہ سی تقریب میں سٹامپ پیپرز پر دستخط کر کے قلبی تعلقات کو قانونی شکل دی اور صبح اسی پہاڑی پر سورج چڑھتے دیکھا۔ حنا کےگھنگریالے بالوں میں افشاں کسی کہکشاں کی آب و تاب کے ساتھ چمک رہی تھی۔ سورج کی روشنی نے اُن ذرات کو بنفشی رنگ دیا تو عون نے بڑھ کر اُسکے ماتھے کو چوم لیا اور ایک سرخ پھول اُسکے بالوں کے کنڈل میں یوں دفن کیا جیسے خواہشات کے گملے میں ٹوٹے خواب دفنائے جاتے ہیں۔ ایک بھرپور ہفتہ بالائی علاقوں میں گزار کر وہ عائلی زندگی کی باقاعدہ شروعات کرنے روشنی کے شہر آ گئے،
انکا فلیٹ میٹروپولیٹن شہر کے جس کونے پر تھا وہاں سے دفتر پہنچتے پہنچتے انکو ڈھائی گھنٹے لگ جاتے۔ راستے میں عون فون پر اپنے پارٹ ٹائم بزنس کے سلسلے میں گاہکوں سے باتیں کرتا ڈرائیو کرتا اور حنا دفتری فائلز پر سائن کرتی جاتی۔ زندگی ٹریڈمل کی طرح ہو گئی تھی، جس پر متواتر چلتے رھو تو توازن قائم ہے ایک قدم بھی لڑکھڑائے تو منہ کے بل گرے۔ گو، دفتر میں دونوں ساتھ کام کرتے تھے مگر یونٹ مختلف تھے، عون چھے بجے دفتر سے فارغ ہو کر اپنے ذاتی بزنس کو دیکھنے شہر کے دوسرے کونے چلا جاتا اور حنا جسکا یہ سال پروموشن کا تھا، اسکو رات دس بجے تک دفتر کی کلوسنگ کروانے کیلئے رکنا ہوتا۔ ويكينڈ آتا تو صبح صبح اپنی فلاحی انجیو کے کام دیکھنے نکل جاتی اور عون باورچی سے فرمائش کر کے غیر ملکی پکوان بنواتا، یار دوستوں کو بلاتا جنکے ساتھ اُسکے بزنس تعلقات تھے، یوں کھانے کی میز پر بھی بزنس ڈیلز ہوتیں، اس انتھک محنت کے ذریعے وہ کروڑوں کما چکا تھا تاہم سرکاری نوکری کا چسکا بھی اپنا تھا اسکو چھوڑنا بھی اُسکے نزدیک کفر تھا۔ دنیا بھر سے کافی منگوانا اُسکا مشغلہ بھی تھا اور اس مشروب کے سہارے ہی وہ ہفتوں جاگ کر کام کرتا۔ مر کر بھی تو سونا ہی ہے اس فلسفے کے تحت اسنے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ سرمایہ جمع کر کے دبئی میں گھر کی تعمیر شروع کروا رکھی تھی جہاں اسنے دس سال بعد ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنی تھی۔ دوسری طرف حنا فلاحی کاموں کی وجہ سے شہر کی ایلیٹ کلاس کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی، امراء کی بیگمات کے ساتھ چھٹی کا دن گزارتی تاکہ انجیو کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈ حاصل کر سکے۔ شب و روز یونہی گزارتے رھے، دن، ہفتے ،مہینے اور سال یونہی دولت اور شہرت کے زینے پر قدم رکھنے کیلئے پار کرتے گئے۔ خاندان کے لوگوں سے میل جول کب سے چھوڑ رکھا تھا، آخر کار رشتےدار کہاں ترقی کرتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ایسوں سے پرہیز ہی بہتر۔ یوں ایٹم کے الیکٹرون کی طرح زندگی ایک نکتے کے ارد گرد طواف کر رہی تھی۔ کسی بگ بینگ کی نا ضرورت محسوس ہوئی نا کن کہنے کی مہلت مل سکی۔ دبئی میں گھر بن گیا تو دونوں نے دفتر سے وہ تمام چھٹیاں اکٹھی لے لیں جو وہ کئی سالوں سے اپنی مرضی سے چھوڑتے آئے تھے، یوں بیس سالہ چھٹیوں کی بھی اچھی خاصی رقم ہاتھ آ گئی۔
ساحل سمندر تو اُنکے شهر میں بھی تھا مگر بےپناہ غلاظتوں کی وجہ سے گٹر کا منظر پیش کرتا تھا۔ یوں دبئی ساحل کنارے گھر بنا کر اُنہوں نے کئی سالوں سے پالی ساحل سمندر کو دیکھ کر دن کا آغاز کرنے والی خواہش پوری کی۔ دبئی کی معروف بلڈنگ میں اُنکا یہ کمپارٹمنٹ خود کار تھا، دروازے خودی کھلتے بند ہوتے، کمرے کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے زیادہ کم ہوتا، ہاتھ بھی ہلانا نا پڑتا، انٹرکام پر نوکر چاکر بھاگے چلے آتے، اتنی سہل زندگی کے حصول پر دونوں فرطِ مسرت سے سرشار تھے، اسی سرشاری میں آرام دہ واٹر بیڈ پر لیٹے لیٹے حنا کی میکسی کو کندھے سے سرکا ہوا دیکھ کر، عون اُسکے قریب ہوا، حنا انسٹاگرام پر اپنے نئے بندوں کی تصویر لگا رہی تھی، تصویر میں عون کا ہاتھ اُسکی کمر میں نظر آیا تو اسنے تنگ ہو کر اسکو کہا کہ وہ پیچھے ہو جائے، وہ نہیں چاہتی اسکے فالورز انکو اس حالت میں دیکھیں، عون نے خاموشی سے اپنا آئی فون اٹھایا اور بستر پر دراز ہو ہو کر دبئی کی مشہور ایسکورٹ ایجنسی پر ماڈلز سلیکٹ کرنے لگا۔ جب کہ حنا انسٹاگرام پر تصاویر اپلوڈ کرنے کے بعد بلڈنگ پر بنے سوانہ باتھ کی طرف چل دی جہاں آج ایک کمسن شامی بچے نے اسکو غسل کروانا تھا!
حرا ایمن