بھارت، حیدر آباد اردو کے معروف افسانہ نگار محمد انیس فاروقی برین ٹیومر کے باعث انتقال کرگئے۔ ان کا تعلق ریاست تلگانہ نظام آباد سے تھا وہ پیشے کے لحاظ سے سیول انجینئر تھے۔ انیس فاروقی کا پہلا افسانہ 1975ء میں ماہنامہ شمع نئی دہلی میں شائع ہوا۔ ان کے چھ افسانوی مجموعے شائع ہوئے جن میں ’’ریزہ ریزہ چاندنی‘‘ 1994 ’’کرچی کرچی خواب‘‘ 1998 ’’سائبان 2003‘‘ ’’گماں سے آگے‘‘ 2006 ’’شفق کے سائے‘‘ 2009 "تند دھڑکنوں کا بھنور” 2012 اور غیر طبع ساتواں افسانوی مجموعہ "دل کی وادی میں” بھی شامل ہے۔ انیس فاروقی کے افسانوں کے موضوعات کے متعلق پروفیسر بیگ احساس نے لکھا ہے۔ انیس فاروقی اپنے افسانوں کے موضوعات کا انتخاب متوسط اور اونچے متوسط طبقہ سے کرتے ہیں۔ جیسے لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ، جہیز کے مطالبات، لڑکوں کے انتخاب میں مال و زر کی اہمیت، جائیداد کے لئے بھائی بھائی کا دشمن ہوجانا، جائیداد کے لئے اپنے باپ سے نفرت کرنا، بیرونی ممالک میں ملازمتوں کے مسائل عرصہ بعد خاندانوں کا ملنا اور پھر قدرت کے آگے انسان کی بے بسی، اور فسادات وغیرہ۔ انیس فاروقی شاعری بھی کرتے تھے مگر ان کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ حال ہی میں ان کا نام اردو اکیڈمی کے کارنامہ حیات ایوارڈ یافتگان کی فہرست میں شامل ہوا تھا۔ اور یونیورسٹی آف حیدر آباد میں ان کے افساموں پر ایم فل کا تحقیقی کام بھی ہوچکا ہے۔

صفی سرحدی