…آئنہ خانے کا سچ
شبد گونگے ہو چکے ہیں
انگلیاں پتھر ہوئیں
اور قلم کی نب پہ تو برسوں کے زنگ
اک عجب ‘سکتے’ کا رنگ

انگلیوں کے درمیاں
جلتے ہوئے سگرٹ نے
اپنی راکھ کی حدّت سے
اپنے زندہ ہونے کی شہادت دی
ذرا میں نیند سے چونکا
نہیں, ‘سکتہ’ نہیں یہ

نہیں لگتا ہے ایسا
مگر… پھر بھی
کھلے ہیں چشم حیراں میں جو منظر
جھوٹ ہوں سارے

کہ جیسے
کذب کی تسبیح تھامے
لہو پیاسی نگاہوں سے
بدن لرزیدگی کو گھورتا
صد لخت منظر
آئنہ خانے کا سچ ہے